Wednesday, 18 May 2011




ہم نے ملک کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا مگر افسوس ہے نا اہل حکمران عوام کامعیار زندگی بہتر نہیں بنا سکے جبکہ آج وہ پابندیاں بھی نہیں جو ہمارے دور میں تھیں، مگر پھر بھی ہماری حالت چالیس سال پہلے سے بدتر ہے،پاکستان اور بھارت کے درمیان ایٹمی جنگ کا کوئی امکان نہیں ورنہ دونوں ملک پتھر کے دو ر میں چلے جائینگے ۔
واشنگٹن ۔پاکستانی ایٹم بم کے بانی ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہاہے کہ ایٹم بم کی وجہ سے پاکستان جوہری بلیک میلنگ سے بچ گیا اور اسے عراق یا لیبیا بنانے کا خواب کبھی پورا نہیں ہوسکتا ،انیس سو اکہتر میں ہمارے پاس ایٹم بم ہوتا تو ملک نہ ٹوٹتا ، ایٹمی پروگرام کی وجہ سے بھارت سے جنگ نہیں ہوئی جبکہ بھارت کا پروگرام صرف دنیا میں سپر پاور کہلانے کیلئے بنایا گیا ، میں نے اپنے ملک کو نیوکلیئر بلیک میلنگ سے محفوظ کیا، بھارت سے تمام اختلافات طے ہونے تک پاکستان کے جوہری پروگرام کو برقرار رکھنا ضروری ہے، میں امید کرتا ہوں کہ ایک وقت آئیگا کہ پاکستان اور بھارت بھی اسی طرح ہم آہنگی اور امن سے رہیں گے جس طرح ماضی کے دو دشمن ممالک جرمنی اور فرانس رہ رہے ہیں۔
امریکی جریدے نیوز ویک میں ایک مضمون میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہاکہ یہ حقیقت نہیں بھولنی چاہیے کہ کسی ایٹمی ملک کو جارحیت کا شکار نہیں بنایا جاسکتا اور نہ ہی اس پر قبضہ کیا جاسکتا ہے ۔عراق اور لیبیا کی تباہی اس کا واضح ثبوت ہےٗ اگر پاکستان ایٹمی ملک ہوتا تو انیس سو اکہترمیں بنگلہ دیش بھی اس سے الگ نہ ہوتا ۔انہوں نے کہاکہ پاکستان کا جوہری پروگرام ہمیشہ مغربی پراپیگنڈے کا ہدف رہا ہے اور اس پر جھوٹے الزامات لگائے گئے ہیں میں واضح کر نا چاہوں گا کہ بھارت کے مئی انیس سو چوہتر میں کئے گئے ایٹمی دھماکے نے ہمیں جوہری پروگرام شروع کر نے پر مجبور کیا اس کی وجہ سے میں پاکستا ن آیا تاکہ اپنے ملک کو بھارتی جوہری بلیک میلنگ سے بچانے کیلئے ایٹمی عسکری صلاحیت دلوا سکوں ۔یورپ میں یورینیم افزودگی ٹیکنالوجی میں پندرہ سالہ تجربے کے بعد میں دسمبر 1975ء میں پاکستان آیا اور مجھے اس وقت کے وزیر اعظم ذو الفقار علی بھٹو نے ایٹمی ہتھیار بنانے کا ٹاسک سونپا ۔
دس دسمبر انیس سو چوراسی کو میں نے جنرل ضیاء الحق کو بتایا کہ ہم ایک ہفتے کے نوٹس پر ایٹمی دھماکہ کر سکتے ہیں ہم نے اسی کی دہائی میں یہ صلاحیت حاصل کرلی تھی جبکہ نوے کی دہائی کے شروع میں دلیوری سسٹم بنا لیا تھا ۔ایک ایسا ملک جو سائیکل کی چین بھی نہیں بنا سکتا اتنے مختصر وقت میں اسکا ایٹمی اور میزائل طاقت بننا مغرب کیلئے حیران کن تھا کیونکہ مغرب اس کی شدید مخالفت کررہا تھا ۔انہوں نے کہاکہ یہ سوال کہ پاکستان کیلئے بھارت کے خلا ف قابل اعتماد ڈیٹرنس کیلئے کتنے ہتھیاروں کی ضرورت ہوگی اس تعلیمی سوال ہے ۔بھارت بہت بڑا پروگرام چلا رہا ہے کیونکہ وہ چین کو اپنے لئے بڑا خطرہ سمجھتا ہے اور علاقے کی سپر پاور بننا چاہتا ہے جبکہ بھارت کو ہمارے خلاف پانچ سے زیادہ ایٹم بموں کی ضرورت نہیں جبکہ ہمیں اس کا مقابلہ کر نے کیلئے دس سے زیادہ ایٹم بموں کی ضرورت نہیں ۔
ایٹمی پروگرام کی وجہ سے گزشتہ چالیس سالوں کے دور ان ہمارے درمیان جنگ نہیں ہوئی ۔ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہاکہ میں نے دس سال پہلے کہوٹہ چھوڑا تھا اس لئے ایٹمی پروگرام کی موجودہ حیثیت کے بارے میں مجھے بہت کم علم ہے ۔اس پروگرام کے بانی کی حیثیت سے میرا اندازہ ہے کہ ہمارے ہتھیاروں کا سائز کم کر نےٗ میزائل سسٹم کے مطابق وار ہیڈ کی تیاری اور ایک ایسا نظام جو ناکام نہ ہوٗاسے یقینی بنانے کی کوششیں کامیاب رہی ہیں ۔کسی بھی ملک کیلئے ضروری ہوتا ہے کہ وہ مختلف مقامات پر ہتھیار جمع کرے تاکہ وہ جوابی حملہ کر سکے ۔کسی بھی ایٹمی ملک پر جارحیت ہوسکتی ہے اور نہ ہی اس کی سرحدوں کو تبدیل کیا جاسکتا ہے ۔اگر انیس سو اکہتر میں ہمارے پاس ا یٹمی ہتھیار ہوتے تو ہمارا ملک نہ ٹوٹتا اور نہ ہی ہمیں ذلت آمیز شکست ہوتی ۔
ملکی ایٹمی پروگرام کے بجٹ کے بارے میں ڈاکٹر عبد القدیر خان نے کہاکہ اس کے بارے میں بہت سی غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں شروع میں ہمارا سالانہ بجٹ صرف ایک کروڑ ڈالر تھا اس کے بعد یہ دو کروڑ کیا گیا جس میں تمام تنخواہیںٗ ٹرانسپورٹٗ طبی سہولیات، تکنیکی سازو سامان اور میٹریل کی خریداری کے اخراجات شامل تھے ۔یہ بجٹ جدید لڑاکا طیارے کی لاگت سے بھی آدھا تھا ۔ایٹمی پروگرام پر بڑی رقوم خرچ کر نے کے بارے میں بعض جاہل لوگوں کی باتوں کا کوئی جواز نہیں ۔انہوںنے کہاکہ بھارت اور پاکستان ایٹمی جنگ کے متحمل نہیں ان کے درمیان ایٹمی جنگ کا کوئی امکان نہیں کیونکہ اس سے دونوں ملک پتھر کے دور میں چلے جائیں گے ،جو چیز میرے لئے تکلیف دہ ہے وہ یہ ہے کہ ہم نے پاکستان کو ایٹمی صلاحیت دی تاکہ وہ دشمنوں کے خلاف کھڑا ہو سکے ۔
ہم نے اپنی سالمیت کو یقینی بنایا میں نے بہت سے سر کاری اداروں پر زور دیا کہ اب وہ عوام کا معیار زندگی بہتر بنانے پر توجہ دیں لیکن بد قسمتی سے نا اہل حکمرانوں نے قومی مفادات کیلئے کچھ نہیں کیا آج ہماری حالت بیس بلکہ چالیس سال پہلے سے بھی بدتر ہے لیکن اس وقت ہم پر بہت سی پابندیاں تھی ۔ہمارے ایٹمی ہتھیاروں کے پروگرام نے ہمیں ناقابل تسخیر دفاع فراہم کیا ہے اور ہم یہ عسکری صلاحیت بھارت سے تمام اختلافات طے ہونے تک رکھنے پر مجبور ہیں ۔اختلافات طے ہونے سے دونوں ملکوں کے درمیان امن کا نیا دور شروع ہوگا ۔
میں امید رکھتا ہوں کہ ایک دن پاکستان اور بھارت بھی اس طرح ہم آہنگی کے ساتھ رہ رہے ہونگے جس طرح ماضی کے شدید دشمن ممالک جرمنی اور فرانس آج رہ رہے ہیں ۔ڈاکٹر عبد القدیر خان نے ایسے وقت میں یہ آرٹیکل لکھا ہے جبکہ عالمی میڈیا کے مطابق پاکستان تیزی سے اپنے ایٹمی پروگرام کو ترقی دے رہا ہے جس پر امریکہ سمیت بعض دیگر ممالک نے سخت اعتراضات اٹھائے ہیں تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ ایٹمی ہتھیاروں کی وجہ سے پاکستان کا دفاع ناقابل تسخیر بنایا گیا ہے اور پاکستان اپنے جوہری پروگرام کو کسی صورت ختم نہیں کریگا بلکہ اسے ضرورت کے مطابق ترقی دینے کا عمل جاری رہے گا